مہوش قماس خان
وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہاہے کہ 17 سیٹوں سے جو بھی ترمیم آئے گی وہ غیر آئینی ہوگی۔
پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسہیل آفریدی کا کہناتھاکہ یہاں پر ان کے آنے کا مقصد یہ ہے کہ “پارلیمنٹ سپریم فارم رہ چکا ہے”۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں سے ایک قرارداد پاس ہو تاکہ وہ اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کر سکیں،میرا ان سے ملنا ضروری ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ملاقات میں 27 ویں آئینی ترمیم پر بھی بات ہوگی۔
ایک سوال کے جواب انہوں نے کہاکہ 17 سیٹوں سے جو بھی ترمیم آئےگی وہ غیر آئینی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : 27ویں آئینی ترمیم!پی ٹی آئی کا عمران خان سے مشاورت کے بعد ردعمل دینے کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی بانی عمران خان سے مشاورت کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر باضابطہ ردعمل دے گی۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاہے کہ حکومت نے ترمیمی بل پیش کردیا ہے مگر اس کے خدوخال سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ’’این ایف سی ایوارڈ جیسے حساس معاملے کو کبھی نہیں چھیڑا گیا، صوبوں کی مشاورت کے بغیر کسی قسم کی آئینی ترمیم نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے 27ویں ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی کسی بھی آئینی ترمیم کا اختیار نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی ٹویٹ کے بعد جو نکات سامنے آئے ہیں وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ ’’اس ترمیم کے ذریعے آزاد عدلیہ کے تصور کو کمزور کیا جا رہا ہے، ہم اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔‘‘
اسی معاملے پر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کے بیان سے ہی ترمیم کی اطلاع ملی، اگر آئینی بینچز بنانا مقصد ہے تو یہ عدلیہ کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے نام پر آئینی اداروں کی ساخت کو تبدیل کرنا تشویشناک ہے۔
ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق بل پر اپوزیشن جماعتیں اور آئینی ماہرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی اپنی حتمی حکمتِ عملی عمران خان سے مشاورت کے بعد طے کرے گی۔





