آئینی عدالتوں کے قیام پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مکمل اتفاق ہے، اختیار ولی خان

اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن آئینی عدالتوں کے قیام کے معاملے پر متفق ہیں، اور آئینی ترمیم میں 18ویں ترمیم کے بنیادی مقاصد کو چھیڑا نہیں جائے گا۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے اختیارات اور وسائل کم کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا، اور آئینی ترمیم سے متعلق تمام اقدامات کا جائزہ لے کر ہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اگر آئینی ترمیم کے حوالے سے کچھ چھپانا ہوتا تو بلاول بھٹو سے بات چیت نہ کی جاتی،انہوں نے مزید کہا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلاول بھٹو زرداری حکومت میں ایک مضبوط اتحادی ہیں، اور پیپلز پارٹی ملکی سیاست میں ایک ذمہ دار قوت کے طور پر کام کر رہی ہے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بنیادی کام ملک میں قانون سازی کرنا ہے اور یہی عمل جاری ہے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد آئینی عدالتوں کا قیام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جنگیں زمینی اور فضائی طور پر لڑی جاتی تھیں، مگر آج کے دور میں جنگی تقاضے تبدیل ہو چکے ہیں۔

اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم کے معاملے میں تمام فیصلے مکمل مشاورت سے کیے جائیں گے، اور ملک کی آئینی اصلاحات کی ضرورت پوری کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان سیاست کا اہم کردار، 27ویں آئینی ترمیم بآسانی منظور ہوگی، فیصل واوڈا

ملاقات میں ملکی سیاست کے اہم معاملات اور مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور 27ویں آئینی ترمیم آسانی سے منظور ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو اعتماد میں لینا چاہیے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوری نظام کو متاثر نہیں ہونے دے گی اور اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے افواج کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ترامیم کی جائیں گی۔

Scroll to Top