نوجوانوں میں کون سی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے؟ حیران کن رپورٹ سامنے آ گئی

دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا مرض وبائی شکل اختیار کر چکا ہے، اور خاص طور پر نوجوانوں میں یہ بیماری تیزی سے عام ہو رہی ہے۔ نئی تحقیق میں اس کی اہم وجہ بھی سامنے آئی ہے۔

امریکی تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال نوجوانوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔

یہ تحقیق امریکا کے Keck اسکول آف میڈیسن میں کی گئی، جس میں نوجوانوں میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال اور ہائی بلڈ شوگر کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

الٹرا پراسیس غذاؤں کو تیار کرنے کے دوران کئی مراحل سے گزارا جاتا ہے اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ فائبر اور دیگر صحت بخش اجزا کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے۔

ان غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، کیک، ٹافیاں، نمکین اشیاء، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا شامل ہیں۔ موجودہ دور میں نوجوان ان کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔

قبل ازیں بالغ افراد میں بھی ان غذاؤں کے استعمال کو ذیابیطس ٹائپ 2 سے منسلک کیا گیا ہے، مگر اس تحقیق میں خاص طور پر نوجوانوں پر ان کے اثرات کا مطالعہ کیا گیا۔

تحقیق میں 17 سے 22 سال کی عمر کے 85 صحت مند نوجوانوں کو شامل کیا گیا اور 4 سال تک ان کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال ہوگا، ہائی بلڈ شوگر کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا ہے۔

مسلسل زیادہ بلڈ شوگر سے نوجوانوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کی تشخیص ہو سکتی ہے، جبکہ ان غذاؤں کا زیادہ استعمال انسولین کی مزاحمت کو بھی بڑھاتا ہے، یعنی جسم انسولین کے ذریعے بلڈ شوگر کو مؤثر طریقے سے کنٹرول نہیں کر پاتا۔

محققین کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں میں معمولی اضافے سے بھی نوجوانوں میں بلڈ گلوکوز کو کنٹرول کرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں امن جرگہ، حکومت اور اپوزیشن کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ نوجوانی میں غذا کی عادات پختہ ہو جاتی ہیں، اور اگر اس دوران پھل، سبزیاں اور دیگر صحت بخش غذاؤں کو معمول بنایا جائے تو درمیانی عمر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ 30 سالوں کے دوران ذیابیطس کے شکار افراد کی تعداد 80 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے اور پاکستان اس مرض سے متاثر ہونے والے چوتھے بڑے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اس سے پہلے جرنل لانسیٹ میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ 1990 سے 2022 کے درمیان دنیا بھر میں بالغ افراد میں ذیابیطس کی شرح 7 فیصد سے بڑھ کر 14 فیصد تک پہنچ گئی، اور غریب و متوسط آمدنی والے ممالک میں یہ اضافہ سب سے زیادہ رہا۔

یہ تحقیق جرنل نیوٹریشن اینڈ میٹابولزم میں شائع ہوئی ہے۔

Scroll to Top