27 ویں آئینی ترمیم کا نیا متن آج سینیٹ میں پیش، آرٹیکل 6 اور چیف جسٹس پاکستان کی مدت سمیت 8 اہم ترامیم کی منظوری متوقع۔
تفصیلات کے مطابق27 ویں آئینی ترمیم کا نیا متن آج سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سینیٹ کا اجلاس صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں ارکان اس ترمیم پر غور و خوض کریں گے۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی آج دوپہر کو بلایا گیا ہے، جس میں آئینی ترامیم کے تحت قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منظوری کے بعد یہ ترمیم سینیٹ میں پیش کی جا رہی ہے تاکہ آئینی طریقہ کار مکمل ہو سکے۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا۔ اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور کچھ ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر ڈائس کے سامنے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس 224 سے زیادہ ارکان موجود تھے جبکہ جمیعت علمائے اسلام (ف) نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
قومی اسمبلی میں منظور شدہ ترمیم میں کل 8 نئی ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ ان میں سب سے اہم تبدیلی آرٹیکل 6 کی کلاز 2 سے متعلق ہے، جس کے تحت سنگین غداری کے عمل کو کسی بھی عدالت کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جا سکے گا۔ اس کلاز میں ہائیکورٹ، سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ آئینی عدالت کا لفظ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ قانونی تشریح میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
ترمیم کے تحت موجودہ چیف جسٹس کو عہدے کی مدت پوری ہونے تک’’چیف جسٹس پاکستان‘‘ کا خطاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت میں سے سینئر ترین جج کو’’چیف جسٹس پاکستان‘‘ مقرر کیا جائے گا۔
سینیٹ میں آج کی کارروائی کے بعد یہ آئینی ترمیم حتمی شکل اختیار کر لے گی، اور ملک کے عدالتی ڈھانچے اور آئینی دفعات میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔





