کراچی : قومی ائیر لائن (پی آئی اے ) بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں قومی ایئرلائن کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران پی آئی اے کی کارکردگی، حفاظتی معیار پر عملدرآمد، اور فضائی بیڑے کی بحالی کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
بورڈ نے جہازوں کی جامع دیکھ بھال، ان کی مرمت اور انہیں دوبارہ فضائی آپریشن میں شامل کیے جانے کی کاوشوں کو سراہا۔
اجلاس کے دوران قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کے مزید اثاثے سرکاری ملکیتی ہولڈنگ کمپنی کے حوالے کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
بورڈ نے فیصلہ کیا کہ پی آئی اے کے انجینئرنگ شعبے کو خصوصی الاؤنس دیا جائے گا، تاکہ عملے کی کارکردگی مزید بہتر ہو اور ممکنہ نجکاری کے عمل سے قبل ادارے کی تکنیکی صلاحیت مستحکم بنائی جا سکے۔
اس موقع پر بورڈ نے ہدایت کی کہ پی آئی اے کی نجکاری سے قبل تمام ضروری منظوریوں کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے، تاکہ انتظامی امور میں تسلسل برقرار رہے اور ادارے کی مجموعی کارکردگی متاثر نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں : قومی ائیر لائن کی مکمل آپریشن معطل، بڑی وجہ سامنے آ گئی
یاد رہے کہ قومی ائیرلائن انتظامیہ اور ائیرکرافٹ انجینئرز کے درمیان جاری تنازعہ شدت اختیار کر گیا تھا جس کے باعث ملک بھر میں قومی ائیرلائن کے فلائٹ آپریشن متاثر ہو گئے ہیں۔
ائیرکرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی کلیئرنس روک دی ہے، جس کے نتیجے میں پیر کی رات 8 بجے کے بعد سے 12 بین الاقوامی پروازیں روانہ نہیں ہو سکیں، اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ مسافروں میں عمرہ زائرین کی بڑی تعداد شامل ہے۔
سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز کا کہنا ہے کہ وہ سی ای او کے رویے میں تبدیلی تک کام نہیں کریں گے اور مسافروں کی زندگی خطرے میں ڈالے بغیر طیاروں کو پرواز کے لیے کلیئرنس نہیں دیں گے۔
انجینئرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی تنخواہیں گزشتہ 8 سال سے نہیں بڑھیں، اور ایئر لائن کے پاس طیاروں کے فاضل پرزہ جات کی کمی ہے۔
دوسری جانب قومی ائیرلائن کے سی ای او نے ائیرکرافٹ انجینئرز کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
ترجمان قومی ائیرلائن نے اس احتجاج کو قانونی حیثیت سے خالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک دراصل ائیرلائن کی نجکاری کو سبوتاژ کرنے کے لیے کی جا رہی ہے اور اس کے تحت ہڑتال یا کام چھوڑنا قانونی جرم ہے۔





