پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کے حالیہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا گیا۔
اڈیالا جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ انہوں نے پولیس یا کسی اور ادارے کو فون کرکے کسی امیدوار کو سپورٹ کرنے کی ہدایت نہیں دی بلکہ صرف الیکشن میں دھاندلی روکنے کے احکامات دیے، کسی کو دھمکی نہیں دی گئی۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ان کے پاس بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان سے ملاقات کے عدالتی احکامات موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ آئینی اور جمہوری راستے اپنانے کے باوجود ملاقات سے روک دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم کو پہلے دن ہی درخواست کی تھی کہ کچھ کریں اور ملاقات کی اجازت دیں، وفاق سے بہتر تعلقات چاہتے تھے، لیکن جو جواب ملا، اس کے بعد دوبارہ اس حوالے سے بیان دینا مناسب نہیں سمجھا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جب وہ کچھ بھی بولتے ہیں تو اس پر مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ سہیل آفریدی نے ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران انتظامیہ اور پولیس کو خبردار کیا تھا کہ اگر الیکشن کے دن کچھ بدمزگی ہوئی تو عہدوں پر رات تک برقرار نہیں رہیں گے۔ اس پر الیکشن کمیشن نے ان دھمکی آمیز الفاظ کا نوٹس لیا۔
الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے سرکاری ملازمین کو دھمکیوں کے معاملے پر سیکرٹری دفاع اور داخلہ سے نوٹس لینے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں : شدید دھند کے پیشِ نظر موٹروے ایم ون کے دو حصے ٹریفک کے لیے بند
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق چیف ایگزیکیٹو کے غیرذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے این اے-18 میں ضمنی انتخاب کے انعقاد میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں، ضلعی انتظامیہ، پولیس، الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملہ اور ووٹرز کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر، آر او، انتخابی عملہ اور ووٹرز کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، پریزائیڈنگ آفیسر کی پولنگ اسٹیشن کی طرف روانگی اور انتخاب کے بعد آر او آفس کی جانب واپسی کے دوران سکیورٹی کے مکمل انتظامات کیے جائیں۔
انتخابی مواد کی نقل و حرکت کے دوران حفاظت فراہم کی جائے اور کسی فرد یا سرکاری آفس ہولڈر کی جانب سے الیکشن کے پرامن انعقاد میں مداخلت کی کوشش کی گئی تو سخت قانونی کارروائی کی جائے۔





