گلگت بلتستان اسمبلی آج اپنی 5 سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر تحلیل ہو جائے گی۔
سیکرٹری گلگت بلتستان اسمبلی کے مطابق 42 ویں اجلاس کا تیسرا اور اختتامی سیشن آج دوپہر 2 بجے شروع ہوگیا اور موجودہ اسمبلی آج رات 12 بجے تحلیل کر دی جائے گی۔
موجودہ اسمبلی 15 نومبر 2020 کے انتخابات کے بعد قائم ہوئی تھی۔ آئندہ انتخابات وفاقی الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت منعقد کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں نگراں وزیراعلیٰ کے نام کا بھی آج اعلان ہونے کا امکان ہے جس کا اختیار وزیراعظم شہباز شریف کے پاس ہوگا۔
نگراں وزیراعلیٰ کی تعیناتی نئے انتخابات کے انعقاد اور انتظامات کی نگرانی کے لیے کی جائے گی تاکہ آئندہ انتخابات شفاف اور منصفانہ انداز میں مکمل ہو سکیں۔
یہ تحلیل گلگت بلتستان میں سیاسی عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے اور موجودہ اراکین اسمبلی کے اختتامی سیشن کے دوران آئینی اور انتظامی امور کی تکمیل بھی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ملک کے 13 حلقوں میں ضمنی انتخابات، ن لیگ نے میدان مار لیا، 12 نشستوں پر کامیابی
ملک کے 13 حلقوں میں ہونیوالے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نون (ن لیگ) نے شاندار کامیابی حاصل کی اور مجموعی طور پر 12 نشستوں پر فتح حاصل کی۔ پنجاب اسمبلی کی 7 میں سے 6 سیٹیں ن لیگ نے جیتیں، جبکہ ایک نشست پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی۔
غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق، قومی اسمبلی کی 6 نشستوں پر ن لیگ نے کلین سویپ کیا، جبکہ پنجاب اسمبلی کی 7 میں سے 6 نشستیں بھی لیگی امیدواروں کے حصے آئیں۔
این اے 18 ہری پور میں بڑا اپ سیٹ دیکھنے کو ملا، جہاں ن لیگ کے امیدوار بابر نواز خان نے تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب کو شکست دی۔ بابر نواز خان نے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق 1 لاکھ 63 ہزار 996 ووٹ حاصل کیے، جبکہ شہرناز عمر ایوب کو 1 لاکھ 20 ہزار 220 ووٹ ملے۔
این اے 96 جڑانوالہ میں ن لیگ کے امیدوار بلال بدر چوہدری نے 93 ہزار 9 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے مخالف آزاد امیدوار نواب ملک شیر وسیر نے 43 ہزار 25 ووٹ حاصل کیے۔
این اے 143 چیچہ وطنی میں ن لیگ کے امیدوار چوہدری طفیل نے میدان مار لیا، آزاد امیدوار ضرار اکبر دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 129 لاہور میں ن لیگ کے حافظ نعمان نے آزاد امیدوار ارسلان احمد کو شکست دی۔
این اے 185 میں ن لیگ کے سردار محمود قادر لغاری کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے حامی محمد کھوسہ ہار گئے۔ این اے 104 سے ن لیگ کے امیدوار راجا دانیال نے 52 ہزار 791 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے مخالف امیدوار رانا عدنان نے صرف 19 ہزار 262 ووٹ حاصل کیے۔





