پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق ممبر قومی اسمبلی گل ظفر خان نے ہری پور ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پوری کابینہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا۔
سوشل میڈیا ایکس پرجاری بیان میں گل ظفر خان نے کہاکہ ہری پور الیکشن میں بڑھکیں مارنے کی ضرورت کیا تھی،جب ہماری حکومت میں ہم اے سی آفس نہیں جا سکتے تو ہمیں استعفے دینا چاہیے۔
انہوں نے مذید کہا کہ جب ہماری حکومت میں ہم اے سی آفس نہیں جا سکتے تو ہمیں استعفے دینا چاہیے۔ کوئی عذر قابل قبول نہیں، سی ایم سمیت سارا کیبنٹ استعفیٰ دے۔
ہری پور الیکشن میں بڑھکیں مارنے کی ضرورت کیا تھی، جب ہماری حکومت میں ہم اے سی آفس نہیں جا سکتے تو ہمیں استعفے دینا چاہیے۔ کوئی عذر قابل قبول نہیں، سی ایم سمیت سارا کیبنٹ استعفیٰ دے۔
— Gul Zafar Khan (@gulzafarkhan) November 24, 2025
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ ہری پور اور پنجاب کے حلقہ این اے 129 پر ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں نے بھرپور حصہ لیا تاہم ہری پور ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی امیدوار شہرناز عمر ایوب کو فارم 47 کے ذریعے ہرایا گیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں ضمنی الیکشن کے نتائج کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ پریزائڈنگ افسران کے دستخط شدہ فارم 45 کے مطابق پی ٹی آئی کی امیدوار الیکشن جیت چکی تھیں مگر راتوں رات الیکشن کمیشن کی جانب سے تعینات ریٹرننگ افسر نے نتائج تبدیل کر دیئے۔
اس موقع پر صدر پی ٹی آئی پشاور ضلع عرفان سلیم اور ایم پی اے ملک عدیل اقبال بھی موجود تھے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ جیسے آٹھ فروری کے عام انتخابات میں مینڈیٹ تبدیل کیا گیا بالکل اسی طرح ہری پور ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی کی گئی اور راتوں رات ریٹرننگ افسر کا دفتر تبدیل کیا گیا، دفتر کے گرد خندقیں کھود دی گئیں اور پی ٹی آئی قیادت کو دفتر سے باہر نکال دیا گیا۔
انہوں نے میڈیا کے سامنے مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دستخط شدہ فارم 45 اور ریٹرننگ افسر کے جاری کردہ نتائج بھی پیش کئے۔
معاون خصوصی نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی امیدوار کو پوسٹر لگانے تک کی اجازت نہیں دی گئی، پی ٹی آئی لاہور کے صدر کو گرفتار کیا گیا اور کارکنوں پر مقدمات قائم کئے گئے۔ اس کے برعکس خیبرپختونخوا حکومت نے ہری پور میں مسلم لیگ ن سمیت تمام جماعتوں کو مکمل لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کیا اور کیپٹن (ر) صفدر پہلے دن سے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ نومئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف فسطائیت کی انتہا کر دی گئی حالانکہ ان واقعات میں پارٹی کا کوئی کردار نہیں تھا۔ الیکشن ایک جمہوری عمل ہوتا ہے جہاں عوام اپنی مرضی کے نمائندے کو ووٹ دیتے ہیں اور فیصلہ عوام ہی کرتے ہیں۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ ہری پور ضمنی الیکشن میں صوبائی حکومت نے اپنی تمام ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم صفدر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم آمریت میں ہوتا ہے جبکہ جمہوریت میں انتخابی عمل ہوتا ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا مقابلہ دراصل مسلم لیگ ن سے ہی تھا۔ مریم صفدر خود پی ٹی آئی کے امیدوار مہر شرافت سے سیٹ ہار چکی ہیں۔





