اوگرا نے آر ایل این جی کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل کا اعلان کر دیا

اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں کمی کی سفارش کر دی

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے سوئی نادرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کی مالی ضروریات کا جائزہ لے کر مالی سال 2025-26ء کے لیے اوسط مقررہ قیمت میں کمی کی سفارش کر دی ہے۔

اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صارفین کے لیے 3 فیصد جبکہ سندھ اور بلوچستان کے لیے 8 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق سوئی نادرن (SNGPL) کی اوسط قیمت کمی کے بعد 1804.08 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اور سوئی سدرن (SSGCL) کی نئی اوسط مقررہ قیمت 1549.41 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو طے کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کی مقامی اور عالمی مارکیٹوں میں قیمت کتنی ہوگئی؟جانئے

اوگرا نے کہا کہ گیس قیمتوں میں کمی صارفین کے مفاد اور مالی نظم و ضبط کے تحت کی گئی ہے، جبکہ پاکستان ایل این جی کے مؤخر کارگوز کا اثر بھی صارفین کے حق میں ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔

کمپنیوں کے مالی پہلو پر بھی کارروائی کی گئی ہے؛ ایس این جی پی ایل کے لیے 13.565 ارب روپے اور ایس ایس جی سی ایل کے لیے 47.315 ارب روپے ایڈجسٹ کیے گئے ہیں۔ اوگرا نے وفاقی حکومت سے کیٹیگری وائز گیس قیمتوں پر مشاورت کی درخواست کر دی ہے۔

حکومتی ہدایات موصول ہونے تک موجودہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔

 اس سے قبل اوگرا نے19نومبر کو وفاقی حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق سوئی کمپنیوں کی نومبر 2025ء کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکوئیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے معمولی ردوبدل کا اعلان کیا تھا۔

جاری اعلامیہ کے مطابقسوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (SNGPL) کے صارفین کے لیے آر ایل این جی کی قیمت میں گزشتہ ماہ اکتوبر 2025ء کے مقابلے میں 1.39 فیصد کمی ہوئی ہے، جو فی ایم ایم بی ٹی یو 0.1696 ڈالر کے برابر ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کے صارفین کے لیے قیمت میں اکتوبر 2025ء کے مقابلے میں 1.97 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو فی ایم ایم بی ٹی یو 0.2216 ڈالر بنتا ہے۔

اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی کے مطابق آر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ بین الاقوامی مارکیٹ میں درآمدی قیمتوں (Delivery Ex-Ship) میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔

Scroll to Top