اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان ایک ایسا گروہ ہے جو صرف ذاتی مفادات کے لیے چلتا ہے، اس لیے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا یا ان پر بھروسہ کرنا کسی صورت فائدہ مند نہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فورسز انتہائی منظم اور ڈسپلنڈ ہیں، جبکہ طالبان کے پاس نہ کوئی واضح اصول ہیں اور نہ ہی کوئی کوڈ آف کنڈکٹ۔
ہمیں طالبان سے کسی بھلائی کی توقع نہیں، انہوں نے کہا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی مذہب یا معاشرے میں یہ قابلِ قبول نہیں کہ کوئی گروہ کسی ملک کی سرزمین استعمال کر کے خونریزی اور تباہی پھیلائے۔
انہوں نے سوال کیا کہ طالبان جس شریعت کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ کس اصول کے تحت لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچاتے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، کیونکہ امن قائم ہوگا تو پورا خطہ اس کے مثبت اثرات سمیٹے گا۔
وزیر دفاع نے ایک بار پھر کہا کہ طالبان کے طرزِ عمل میں آج تک کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی اور وہ اپنے ملک و قوم کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ان کے مطابق طالبان کا طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ ان پر اعتماد کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد دھماکہ، دہشتگردوں کا افغانستان میں خوراج سے رابطہ تھا، عطا تارڑ
جبکہ دوسری جانب اسلام آباد دھماکہ، عطا تارڑ کا انکشاف، دہشتگردوں کا افغانستان میں خوارج سے رابطہ اور منصوبہ بندی سامنے آئی
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات و محکمۂ داخلہ کے رکن عطا تارڑ نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی منصوبہ بندی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں کا افغانستان میں خوارج کے ساتھ رابطہ تھا اور دھماکے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی تھی۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ دہشتگرد ساجد اللہ 2015 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ افغانستان شامل ہوا اور ہینڈ لر کے طور پر خودکش بمبار کو لاہور لایا۔
بروقت کارروائی کی بدولت ہم بڑے نقصان سے بچ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود نورولی محسود نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔





