لندن: عالمی طبی جریدے لینسیٹ چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ ہیلتھ میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں بچوں اور نوعمر افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح تقریباً دوگنی ہو گئی ہے، اور اس میں موٹاپا سب سے بڑی وجہ قرار پایا ہے۔
تحقیق میں 21 ممالک کے 443,000 سے زائد بچوں کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2000 میں صرف 3.2 فیصد بچوں میں ہائی بلڈ پریشر پایا جاتا تھا، جبکہ 2020 تک یہ شرح 6.2 فیصد سے تجاوز کر گئی، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریباً 114 ملین بچے اور نوعمر افراد اس سے متاثر ہوئے۔
مزید 8.2 فیصد بچوں اور نوعمر افراد میں بلڈ پریشر معمول سے زیادہ پایا گیا، مگر وہ ابھی ہائی بلڈ پریشر کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔
تحقیق کے مطابق موٹاپا ہائی بلڈ پریشر کی بنیادی وجہ ہے، کیونکہ تقریباً 19 فیصد موٹاپا والے بچوں میں ہائی بلڈ پریشر پایا گیا، جبکہ صحت مند وزن والے بچوں میں یہ شرح 3 فیصد سے بھی کم تھی۔
محققین نے بتایا کہ موٹاپا انسولین ریزسٹنس اور خون کی نالیوں میں تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے، جو بلڈ پریشر کو معمول کے دائرے میں رکھنے کو مشکل بنا دیتی ہیں۔
رپورٹ میں بلڈ پریشر کی جانچ کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اگر ہائی بلڈ پریشر کم از کم تین طبی ملاقاتوں میں ہیلتھ ماہر کے ذریعے تصدیق ہو، تو شرح تقریباً 4.3 فیصد آتی ہے، جبکہ گھر پر بلڈ پریشر کی مانیٹرنگ شامل کرنے پر یہ شرح 6.7 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کھیل کے میدانوں میں نئی تبدیلی: گورنر نے نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے موبائل ایپ جاری
تحقیق میں ماسکڈ ہائی بلڈ پریشر کے حالات پر بھی توجہ دی گئی، جہاں بیماری معمول کے چیک اپ میں ظاہر نہیں ہوتی، اور یہ تقریباً 9.2 فیصد بچوں اور نوعمر افراد میں پایا گیا، جو کم تشخیص کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس کے برعکس وائٹ کوٹ ہائی بلڈ پریشر، یعنی صرف طبی ماہرین کی موجودگی میں بلڈ پریشر بڑھنا، تقریباً 5.2 فیصد میں پایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض بچوں کی غلط درجہ بندی بھی ہو سکتی ہے۔
یہ تحقیق بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے ہوئے رجحان پر خطرے کی گھنٹی بجاتی ہے اور والدین، اساتذہ اور صحت کے ماہرین کو اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔





