پاک افغان بارڈر کی 45 روزہ بندش نے تاجروں کو کروڑوں کے نقصان میں ڈالا، فضل الرحمن سے فوری امداد کی اپیل
تفصیلات کے مطابق پاک افغان بارڈر کی مسلسل 45 روزہ بندش نے تاجروں کو مالی بحران میں ڈال دیا ہے، جس کے بعد تاجروں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بارڈرز کی بندش کے باعث انہیں کروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے اور اگر تجارتی سرگرمیاں جلد بحال نہ ہوئیں تو نہ صرف تاجروں بلکہ قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
پاک افغان بارڈرز سے وابستہ تاجروں پر مشتمل جرگے نے مفتی محمود مرکز پشاور میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں تاجروں نے سرحدوں کی طویل بندش سے پیدا ہونے والے معاشی اور تجارتی خطرات سے آگاہ کیا اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
مولانا فضل الرحمن نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ جمعیت علمائے اسلام تاجروں کے مسائل کو ہر فورم پر اجاگر کرے گی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے موثر آواز بلند کرے گی۔ انہوں نے تجارتی بندش پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔
ملاقات میں جے یو آئی فاٹا کے امیر مولانا جمال الدین، سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش، مفتی مصباح الدین، شمالی وزیرستان آل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثناءاللہ ہمزونی، عبدالستار خان، ملک زرابت خان، ملک روح اللہ اور دیگر تاجروں نے بھی حصہ لیا۔
تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بارڈرز کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوں اور ملک کی معیشت پر منفی اثرات کم ہوں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ 45 روز کی بندش نے نہ صرف کاروباری افراد بلکہ پورے خطے کی تجارت پر شدید اثر ڈالا ہے، جس سے قومی معیشت کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر کہا کہ جمعیت علمائے اسلام تاجروں کے مسائل کو سیاسی اور معاشی فورمز پر اٹھاتی رہے گی اور تجارتی بحران کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔





