نواز شریف کی پارٹی کو اقتدار میں لانیوالوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، شوکت یوسفزئی

نواز شریف کی پارٹی کو اقتدار میں لانیوالوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، شوکت یوسفزئی

شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پارٹی کو اقتدار میں لانے والوں کا بھی احتساب ناگزیر، بانیٔ پی ٹی آئی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پارٹی کو اقتدار میں لانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ میاں نواز شریف کا مطالبہ درست ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے والوں کا حساب لیا جائے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ نواز شریف اور ان کی پارٹی کو اقتدار میں کون لے کر آیا۔

شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ احتساب صرف بانیٔ تحریک انصاف تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے پیچھے کام کرنے والے تمام کرداروں کو بھی احتساب کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف قائم رہنا ہے تو ہر شراکت دار کی ذمہ داری کا تعین کرنا ضروری ہے۔

گفتگو کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی کہا کہ جنرل فیض حمید کے بعد جنرل قمر باجوہ کا بھی احتساب ہوگا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اداروں اور سیاسی کرداروں دونوں کے لیے شفاف احتساب ناگزیر ہے۔ اس پر وزیرِ مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے ردعمل میں کہا کہ 2011ء سے 2018ء تک وہ تمام افراد جنہوں نے تحریکِ انصاف کو پروموٹ کیا، ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ نو منتخب ارکانِ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اکیلے مجرم نہیں، انہیں لانے والے بھی برابر کے شریک ہیں اور ان کا بھی حساب ہونا چاہیے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ وہ لوگ جو دوسروں کو چور اور ڈاکو کہتے ہیں، خود چور ثابت ہوئے۔

نواز شریف نے ضمنی انتخابات کے نتائج پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے کارکردگی کو ووٹ دیا، نفرت، فساد اور فتنے کو شکست ہوئی، اور مسلم لیگ (ن) کے جانے کے بعد ملک میں بہت تباہی ہوئی۔ 2018ء سے 2022ء تک ہونے والے واقعات کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی قیادت پر ہے، جس سے ملک کی معیشت اور سیاسی نظام پر گہرا اثر پڑا۔

یہ بھی پڑھیں : پاک افغان بارڈر بندش سے تاجروں کو مالی مشکلات، فضل الرحمن سے مدد کی اپیل

Scroll to Top