گورنر راج کی بحث گرم، ایمل ولی خان کا مؤقف سامنے آگیا

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ گورنر راج کے حوالے سے ہونے والے حکومتی مشاورتی عمل سے اے این پی کو دور رکھا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کا نظریہ عدم تشدد، امن اور انسانی وقار پر مبنی ہے، اس لیے ایسے فیصلوں میں اے این پی کا نام شامل نہ کیا جائے جو اس کے نظریاتی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کی بنیاد خدائی خدمتگار تحریک کے اصولوں—عدم تشدد، برداشت اور انسانی احترام—پر استوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشتون قوم نے ہمیشہ نوآبادیاتی جبر اور انتہاپسندی کے مقابل باوقار اور اصولی مؤقف اپنایا ہے، اور اے این پی 1986 سے جمہوری سوشلزم، وفاقیت اور عوامی حقوق کی مضبوط آواز رہی ہے۔

ایمل ولی خان نے واضح کیا کہ پارٹی کا نظریہ بین المذاہب ہم آہنگی، امن، ترقی اور انصاف سے جڑا ہے اور آج بھی اے این پی پاکستان میں جمہوریت اور برداشت کی نمایاں علامت ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ گورنر راج کے معاملے میں اے این پی کا نام شامل نہ کیا جائے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج سے متعلق مشاورت جاری ہے۔ وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ دہشتگردی اور سرحدی صورتحال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ضلع کرم میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ ناکام، 4 دہشتگرد مارے گئے

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے نئے گورنر کے لیے پانچ نام زیر غور ہیں۔ ان میں تین سیاسی شخصیات امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب شیرپاؤ اور پرویز خٹک بھی شامل ہیں جبکہ دو نام سابق فوجی افسران کے ہیں جن میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔

Scroll to Top