غزہ: غزہ میں جنگ کے دو سال بعد تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے، جہاں اسلامک یونیورسٹی آف غزہ نے بمباری سے متاثرہ عمارتوں میں بالمشافہ کلاسز کا آغاز کردیا۔
جنگ کے دوران یونیورسٹی کی عمارتیں شدید نقصان کا شکار ہوئیں اور کئی حصے ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے۔
اب جزوی طور پر بحال شدہ کلاس رومز میں شعبہ ادویات اور ہیلتھ سائنس کے طلبہ نے دوبارہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی ہے۔
The Islamic University in Gaza City has resumed in-person classes for hundreds of students after a two-year closure caused by the Israeli genocide. Many campus buildings were fully or partially damaged, and some remain under reconstruction, but the university has reopened its… pic.twitter.com/X7zbVKBuca
— Quds News Network (@QudsNen) November 30, 2025
دو سال تک تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں اور آن لائن کلاسز بھی نقل مکانی، بجلی کی بندش اور تباہ شدہ تعلیمی ڈھانچے کے باعث نہ ہونے کے برابر رہیں۔
فلسطین حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 165 تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ جبکہ 392 ادارے جزوی نقصان کا شکار ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : خسرہ سے اموات میں 88فیصدکمی، کروڑوں جانیں بچ گئیں، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ جاری
کئی یونیورسٹی عمارتیں اب بھی بے گھر خاندانوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔
یونیورسٹی کے صدر نے آج کے دن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تدریسی سرگرمیاں بتدریج بحال کی جا رہی ہیں اور طلبہ کا حوصلہ فلسطینی قوم کے زندگی اور علم سے جڑے رہنے کے عزم کی واضح علامت ہے۔





