خسرہ سے اموات میں 88فیصدکمی، کروڑوں جانیں بچ گئیں، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ جاری

پشاور: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 2000 سے 2024 کے دوران حفاظتی ویکسین مہمات کے نتیجے میں خسرہ سے اموات میں 88 فیصد کمی آئی ہے اور تقریباً 5 کروڑ 90 لاکھ جانیں بچائی گئی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں خسرہ کے باعث 95 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت 5 سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔

2024 میں خسرہ کے نئے کیسز کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ ریکارڈ کی گئی، جو 2019 کے مقابلے میں 8 لاکھ زیادہ ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا کہ خسرہ سب سے زیادہ متعدی بیماری ہے اور ویکسین کی کمی اس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

سال 2024 میں 59 ممالک میں خسرہ کی وبائیں پھیلیں، خاص طور پر افریقہ اور مشرقی بحیرہ روم کے علاقے، جہاں کئی بچے حفاظتی ویکسین سے محروم رہے۔

یہ بھی پڑھیں : خواجہ سرا افراد کے لیے بڑی خوشخبری، خیبرپختونخوا میں نیا رجسٹریشن فارم متعارف

2024 کے آخر تک 96 ممالک خسرہ سے پاک تھے، تاہم نومبر 2025 میں کینیڈا میں وائرس کے پھیلاؤ کے باعث امریکی خطے کی خسرہ سے پاک حیثیت متاثر ہوئی۔

ڈبلیو ایچ او نے رکن ممالک پر زور دیا کہ ہر بچے کو خسرہ ویکسین کی دونوں خوراکیں فراہم کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس مرض کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

Scroll to Top