پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین سے جبری بے دخلی کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پالیسیوں کا مقصد غزہ کے باسیوں کو ان کی زمینوں سے محروم کرکے جمہوریہ مصر کی طرف منتقل کرنا ہے، جس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔
مشترکہ اعلامیہ پر پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنے کی ہر کوشش نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر مؤثر اور مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔ وزرائے خارجہ نے اعلان کیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے منصوبوں کی سخت مخالفت جاری رکھی جائے گی، جبکہ رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھلا رکھنے پر زور دیتے ہوئے غزہ کے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں غزہ میں فوری اور مکمل جنگ بندی برقرار رکھنے، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی، اور غزہ کی تعمیرِ نو و بحالی کے فوری آغاز پر اتفاق کا اعلان بھی کیا گیا۔ وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے حالات سازگار بنانے ہوں گے تاکہ وہ غزہ میں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں سنبھال سکے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں خون کا سلسلہ جاری: تازہ بمباری میں 3 فلسطینی شہید
اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ امریکا سمیت تمام علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔ وزرائے خارجہ نے دو ریاستی حل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت قرار دینے کی توثیق بھی کی۔





