فوجی احتساب نے اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھایا، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج میں شروع کیے گئے تاریخی احتسابی عمل نے عوام کا اداروں پر اعتماد مضبوط کیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے ادارے کے اندر سے احتساب کا آغاز کر کے ایسی مثال قائم کی ہے جو فوج کی تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

طارق فضل چوہدری نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید سے متعلق کہا کہ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ثابت ہوا، ان کا پندرہ ماہ تک ٹرائل کیا گیا اور مکمل صفائی کا موقع بھی دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی نہیں بلکہ آئین اور قانون کی فتح ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فیض حمید نے ریاستی عہدے کو ذاتی پسند و ناپسند کے لیے استعمال کیا، حکومتیں بنانے اور گرانے میں کردار ادا کیا، سیاسی انجینئرنگ کی اور ایک جماعت کو فائدہ پہنچایا جبکہ دوسری کو نشانہ بنایا۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق ملک گزشتہ آٹھ برس انہی اقدامات کے نتائج بھگت رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف اور فیض حمید کے گٹھ جوڑ نے سیاسی عدم استحکام پیدا کیا اور اداروں کے درمیان دوریاں بڑھانے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں : نجم سیٹھی کا تہلکہ: عمران خان کے کہنے پر ان کی بہنیں بھارتی میڈیا کو انٹرویو دے رہی ہیں

ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی جیل کو پارٹی سیکرٹریٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ان کے بیانات اداروں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں، جبکہ بیرونِ ملک بیٹھے عناصر بھی اسی بیانیے کو ہوا دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف جھوٹے مقدمات اور متنازع انتخابات بھی اسی سیاسی انجینئرنگ کا حصہ تھے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اب کوئی طاقتور شخص سیاسی انجینئرنگ نہیں کر سکے گا، پی ٹی آئی کو سمجھنا ہوگا کہ اب انہیں سپورٹ کرنے والا کوئی فیض حمید موجود نہیں ہے۔

سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، ورنہ وفاق کے پاس گورنر راج کا آپشن بھی موجود ہے۔

Scroll to Top