پشاور ہائیکورٹ کابڑا فیصلہ، افغان طالبہ کو داخلے کے عمل سے نہ نکالنے کا حکم، سماعت 30 دسمبر تک ملتوی
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے درخواست گزار افغان طالبہ کو داخلے کے عمل سے نہ نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔ افغان طالبہ کے داخلے سے متعلق درخواست پر عدالت نے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ جاری کیا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار طالبہ کو افغان پاسپورٹ نہ ہونے کی بنیاد پر داخلے کے عمل سے خارج نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ افغان طلبہ کو مخصوص سیٹوں پر داخلے کے لیے افغان پاسپورٹ اور ویزا لازمی ہیں، تاہم درخواست گزار کے وکیل کے مطابق پاک افغان بارڈر بند ہونے کے سبب پاسپورٹ حاصل کرنے میں وقت لگ رہا ہے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کو پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے داخلے سے محروم نہیں رکھا جائے گا اور فریقین سے تفصیلی جواب طلب کیا گیا ہے۔ اس دوران افغان طالبہ کو داخلے کے عمل سے خارج نہیں کیا جائے گا۔
عدالت نے سماعت کو مزید 30 دسمبر تک ملتوی کر دیا ہے تاکہ فریقین اپنی جوابی دلائل پیش کر سکیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے افغان طالبہ کو داخلے کے حق میں عارضی تحفظ حاصل ہو گیا ہے، اور یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں داخلے کے عمل کے دوران افغان طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔





