سیاسی برف پگھلنے لگی؟ شوکت یوسف زئی نے حکومت کو پی ٹی آئی سے مفاہمت کا مشورہ دیدیا

سیاسی برف پگھلنے لگی؟ شوکت یوسف زئی نے حکومت کو پی ٹی آئی سے مفاہمت کا مشورہ دیدیا

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ حکومت بیک فٹ پر جائے اور پی ٹی آئی سے مفاہمت کا راستہ نکالے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شوکت یوسف زئی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی صورتحال میں بیک فٹ پر جائے اور تحریک انصاف سے مفاہمت کا راستہ نکالے، کیونکہ ملک اس وقت شدید بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی بحران کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو بھی مختلف مشکلات کا سامنا ہے، تاہم بات چیت کے دروازے بند کرنے کے بجائے تمام سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضد چھوڑ کر مفاہمت کی طرف بڑھے اور پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کا آغاز کرے۔ شوکت یوسف زئی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے مسائل مزید الجھتے ہیں، حل نہیں نکلتا۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سینئر رہنما سلمان اکرم راجا کی گفتگو ہمیشہ مفاہمتی انداز میں ہوتی ہے، تاہم جلسوں کے دوران بعض اوقات جذباتی تقاریر کی وجہ سے سخت بیانات سامنے آ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو بھی موجودہ حالات میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ آگے کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔

شوکت یوسف زئی نے شہباز شریف کی حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی بحران اب تک ٹل نہیں سکا۔ ان کے مطابق اگر آئی ایم ایف کی قسط نہیں ملی تو ملک کے لیے آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار تیزی سے ملک سے باہر جا رہے ہیں اور صرف قرضوں کے سہارے معیشت کو نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کیونکہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بہتری ممکن نہیں۔

Scroll to Top