پی ٹی آئی کی اندرونی کشمکش، مالی بحران اور غلط پالیسیوں نے ارکان اسمبلی کو کھل کر ناراض کر دیا
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی کی غلط پالیسیاں اور مالی بحران نے پارٹی کے ارکان کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ پارٹی کے کئی اراکین نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں نہ صرف پارٹی کی فنڈنگ متاثر ہو رہی ہے بلکہ ارکان کو ذاتی مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کئی ایم این ایز نے پارٹی کے رہنمائوں پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ارکان نے کہا کہ ’’ہماری تنخواہ پر ہمارا گزارا نہیں ہوتا، تو پارٹی کو فنڈ کیسے دیں؟‘‘ یہ بات ان کے مالی بحران اور ناراضگی کی عکاسی کرتی ہے۔
پی ٹی آئی کے اراکین نے بتایا کہ پارٹی قیادت کی کچھ پالیسیوں کی وجہ سے کمیٹیوں سے حاصل ہونے والی مراعات بھی ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ بھی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ اراکین نے مزید کہا کہ پارٹی کی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے ان کے ذاتی کاروبار تباہ ہو گئے ہیں اور مختلف عدالتوں میں جاری کیسز کے اخراجات بھی انہیں برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پارٹی قیادت کو واضح کرنا چاہیے کہ مالی بحران کی وجوہات کیا ہیں، تاکہ اراکین آگے کا لائحہ عمل سمجھ سکیں۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے یہ معاملہ اگلے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اٹھانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پارٹی نے مالی بحران کے پیش نظر اراکین اسمبلی کو تعاون کے لیے خط بھی لکھا ہے اور پارٹی چلانے کے لیے ہر پارلیمنٹرین سے اپنی تنخواہ کا 10 فیصد پارٹی کو دینے کا کہا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، پارٹی کی اندرونی تقسیم اور مالی مشکلات نہ صرف ارکان کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ پارٹی کی سیاسی کارکردگی پر بھی برا اثر ڈال سکتی ہیں۔





