پشاور کے نجی ہسپتال عبادت میں ہورازئن این جی کی جانب سے سائیکالوجیکل فرسٹ ایڈ کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
اس تربیت میں باجوڑ اور بونیر سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے شرکت کی، جہاں ذہنی صحت کے مسائل اور آگاہی کی کمی ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔
اس تربیتی پروگرام کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقات، خصوصاً خواتین، کو نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا تھا، جو ذہنی دباؤ اور سماجی پابندیوں کے باعث علاج تک رسائی سے محروم رہتی ہیں۔
ورکشاپ میں مدارس اور اسکولوں کے اساتذہ، نوجوانوں، خواتین اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی، جس سے ذہنی صحت کے فروغ کے لیے ایک جامع اور شمولیتی ماحول قائم ہوا۔
ہورائزن این جی او کے چیئرمین اور معروف ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی نے اس موقع پر کہا کہ باجوڑ اور بونیر جیسے علاقوں میں ذہنی صحت پر خاموشی ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے، جسے توڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مقامی سطح پر کمیونٹی رہنماؤں اور خواتین کو سائیکالوجیکل فرسٹ ایڈ کی تربیت دے کر نہ صرف فوری مدد ممکن بنائی جا سکتی ہے بلکہ ایک مضبوط اور باخبر معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
تربیتی سیشنز میں کونسلنگ اور سائیکالوجیکل فرسٹ ایڈ کے بنیادی اصولوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ یہ سیشنز معروف ماہرینِ ذہنی صحت پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی اور پروفیسر ڈاکٹر علی احسان مفتی کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئے، جنہوں نے عملی مثالوں کے ذریعے شرکاء کو متاثرہ افراد کی فوری مدد، ذہنی استحکام اور ہمدردانہ رویے کی تربیت دی۔ سوال و جواب کے خصوصی سیشن میں شرکاء نے اپنے علاقوں کے مخصوص مسائل پر رہنمائی حاصل کی۔
ورکشاپ کے اختتام پر تمام شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں، جس کے بعد انہیں مقامی سطح پر ذہنی صحت کے ابتدائی معاونین کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ یہ اقدام باجوڑ اور بونیر جیسے علاقوں میں، جہاں ماہر نفسیاتی سہولیات محدود ہیں، ایک پائیدار اور مضبوط ذہنی صحت کے نیٹ ورک کے قیام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔





