خیبر پختونخوا عدمِ تحفظ، بدامنی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں،حکومت امن کیلئے سنجیدہ نہیں، میا ں افتخار

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سانحۂ اے پی ایس ہماری تاریخ کا ایک اندوہناک اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔ اس دل دہلا دینے والے حملے میں معصوم بچوں، اساتذہ اور عملے کی شہادت کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ گیارہویں برسی کے موقع پر سانحے کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

شہدائے آرمی پبلک سکول پشاور کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ سانحۂ اے پی ایس نے دہشتگردی کے خلاف ایک مشترکہ اور قومی عزم کو جنم دیا تھا۔ بدقسمتی سے غیر سنجیدگی کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ وہ عزم کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ آج پورا خیبر پختونخوا ایک مرتبہ پھر عدمِ تحفظ، بدامنی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ مستقل اور سنجیدہ پالیسیوں کے بغیر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔

میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی ایک دن، ایک آپریشن یا ایک نعرے سے نہیں جیتی جا سکتی۔ ریاست کو ہرقسم کی دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف یکساں، شفاف اور غیر مبہم پالیسی اپنانی ہوگی۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ دہشتگردی کی ہر شکل، ہر سہولت کار اور ہر سرپرست کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنا ہوگی۔

ان کا مزيد کہنا تھا کہ سانحۂ اے پی ایس کے شہداء کا خون ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ انتہاپسندی کے اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ نوجوان نسل کو نفرت، تشدد اور تعصب کی بجائے امن، برداشت اور جمہوری اقدار کا راستہ دکھایا جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی سانحے سے متاثرہ تمام شہداء کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ پائیدار امن، آئین کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Scroll to Top