فیض حمید قومی مجرم، سرکاری وسائل ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے،میاں جاوید لطیف

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق ڈی جی آئی ایس پی آرفیض حمید پر سنگین الزامات عائد کیے اور انہیں قومی مجرم قرار دیا۔

میاں جاوید لطیف نے کہا کہ فیض حمید نے سرکاری انویسٹیشن سیل کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال سے ملک کے چاروں ستونوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ داخلہ اور خارجہ پالیسی دونوں میں فیض حمید کا اثر غیر معمولی تھا اور وہ اپنی مرضی سے فیصلے کر رہے تھے۔

ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ انہیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ جنرل فیض حمید اُن کی چیخیں سننا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جتنا تشدد میرے ساتھ ہوا، اگر وہی تشدد کلبوشن یادیو پر کیا جاتا تو وہ سارے راز فاش کر دیتا۔

دوسری جانب پروگرام میں شامل کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے بھی فیض حمید پر لاپتہ افراد کے ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس سلسلے میں فیض حمید سے براہِ راست پوچھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : کیا آپ کا صبح کا ناشتہ آپ کا وزن بڑھا رہا ہے؟ ان 5 عام غلطیوں سے بچیں

ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید نے صحافیوں کو بھی لاپتہ کیا، اور اس معاملے میں فیض حمید کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ میاں جاوید لطیف کے الزامات میں سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل دونوں کو چھوا گیا ہے، اور اس بیان نے ایک مرتبہ پھر فیض حمید کے کردار پر بحث کو جنم دیا ہے۔

پروگرام میں شرکت کرنے والے دیگر قانونی ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ لاپتہ افراد کے مسائل پر شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔

Scroll to Top