امریکا نے فلسطینی اتھارٹی سمیت 7 ممالک کے شہریوں پر داخلے پر پابندی عائد کر دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے پاسپورٹ ہولڈرز کے ساتھ ساتھ شام، برکینا فاسو، مالی، نائجر، سیرا لیون، جنوبی سوڈان اور لاؤس کے شہری بھی اب امریکا میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا نے اپنے داخلے کے قوانین مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایسے تمام غیر ملکیوں کو ملک میں داخلے سے روکنا چاہتا ہے جو اسے غیر محفوظ اور غیر مستحکم بنا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی عوام اور ملک کی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ تازہ پابندی ایسے وقت میں نافذ کی گئی ہے جب امریکا پہلے ہی بارہ دیگر ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی لگا چکا ہے۔

ان پابندیوں کا مقصد دہشت گردی اور دیگر سکیورٹی خطرات کے خدشات کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی آئی اے کی نجکاری آخری مرحلے میں، کون جیتے گا سب سے بڑی بولی؟

پابندی کا اطلاق نہ صرف نئے ویزے کے درخواست دہندگان پر ہوگا بلکہ ان ممالک سے امریکا واپس آنے والے یا داخل ہونے والے مسافروں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکام اس اقدام کے تحت تمام متعلقہ سفارت خانوں اور امیگریشن دفاتر کو ہدایات جاری کر چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکا اور ان ممالک کے تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ انتظامیہ کی سکیورٹی پالیسیوں پر بحث چھڑ سکتی ہے۔

Scroll to Top