پشاور میں سردی کے ساتھ صحت کے خطرات بڑھ گئے، نمونیا اور فالج کے کیسز میں اضافہ

پشاور: سردیوں کی شدت میں اضافے کے ساتھ پشاور میں صحت کے مسائل تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں نمونیا اور فالج کے کیسز میں اضافہ، اور ذہنی امراض میں خطرناک رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس سے طبی عملہ اور شہری دونوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نمونیا کے درجنوں کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تعداد بچوں اور بزرگوں کی تھی۔

افسوسناک طور پر بعض معصوم بچے نمونیا کے باعث جاں بحق ہو گئے۔ ماہرین صحت نے شہریوں کو فوری احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

سرد موسم اور غیر محتاط طرزِ زندگی کے باعث فالج کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شہر کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں میں گزشتہ 14 دنوں کے دوران فالج کے درجنوں مریض داخل ہوئے، جن میں کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔

اس دوران ذہنی صحت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ملک میں 8 کروڑ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں، اور 6 سے 9 فیصد افراد میں ڈپریشن اور انزائٹی دیگر ممالک کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کشمیر بھارت کا نہ تھا نہ کبھی ہوگا، بھارت مداخلت کی ریاستی سرپرستی بند کرے، پاکستان

پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی نے پشاور میں سائیکلوجیکل فرسٹ ایڈ ورکشاپ کے دوران بتایا کہ ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص ذہنی امراض کے باعث اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے۔

انہوں نے شہریوں اور رضاکاروں کو ذہنی امراض کے علاج اور بروقت مدد حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ماہرین صحت شہریوں پر زور دیتے ہیں کہ سردی میں احتیاطی اقدامات اپنائیں، بروقت ویکسینیشن کریں، اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو نظر انداز نہ کریں تاکہ صحت کے مزید سنگین مسائل سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top