لاہور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اسلام آباد یا پشاور کو بند کرنے سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سزا ختم نہیں ہو سکتی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے عدالتی فیصلے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی حکومت دہشت گردوں سے بات چیت اور ان کے دفاتر قائم کرنے کی بات کرتی رہی، حالانکہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کسی صورت مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کے کسی ملک میں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے رہ سکتے ہیں؟
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ سیاسی مذاکرات مسلم لیگ (ن) کے بغیر ممکن نہیں، اور پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کا عمل مثبت ہے، تاہم ماضی میں جب مذاکرات کی بات کی جاتی تھی تو پی ٹی آئی رہنما ہاتھ ملانے سے بھی انکار کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج پی ٹی آئی خود ایک نام نہاد امپورٹڈ اپوزیشن لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی یہ واضح کرے کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے بارے میں ان کا مؤقف کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : مارکو روبیو نے غزہ سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی تصدیق کر دی
اسی طرح سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کے خواہشمند راجہ ناصر عباس کو کُرم میں ہونے والے مظالم پر خاموشی کی وضاحت دینی چاہیے۔
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں وی وی آئی پی قیدی ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو وہ خود دوسروں کے لیے چاہتے تھے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اکثر اڈیالہ جیل کے باہر نظر آتے ہیں، جبکہ انہیں صوبے میں رہ کر عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ 13 برسوں سے کرپشن کا گڑھ بنا ہوا ہے۔





