توشہ خانہ 2 کیس !بانی پی ٹی آئی کو 10 سال قید کی سزا سنادی گئی

توشہ خانہ 2 کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 10 سال قید اور جرمانے کی سزا

اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت نے توشہ خانہ 2 کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ یہ سزا کسی سیاسی مخالفت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریاستی تحائف کے تحفظ اور عوامی اعتماد کی پاسداری کے اصول پر مبنی ہے۔

عدالت کے مطابق، مقدمہ عوامی عہدے داروں کی جانب سے سرکاری تحائف کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے سنگین جرم سے متعلق تھا، اور یہ فیصلہ اصول اور قانون کی بالادستی کے تحت سنایا گیا ہے۔

توشہ خانہ 2 کیس کے فیصلے کے مطابق، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دفعات 47، 2 اور 5 کے تحت 7، 7 سال قید کی اضافی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان پر ایک کروڑ روپے جرمانے کا بھی حکم جاری کیا۔

جج شاہ رخ ارجمند نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عوامی عہدہ ایک امانت ہے اور ریاستی تحائف ریاست کی ملکیت ہیں، ان کا ذاتی استعمال ناقابل قبول جرم ہے۔ عدالت نے اس موقع پر واضح کیا کہ سزا کا مقصد محض تنبیہ یا علامتی کارروائی نہیں بلکہ مستقبل میں عوامی عہدے داروں کے لیے احتساب اور نظم قائم کرنا ہے۔

توشہ خانہ 2 کیس میں مقدمے کی کارروائی کئی ماہ تک جاری رہی، جس میں گواہوں کے بیانات، عدالتی ریکارڈ، غیر قانونی تحائف کی اصل قیمت کی تصدیق اور متعدد قانونی شواہد کو مدنظر رکھا گیا۔ عدالت نے دفاعی حقوق کے تمام تقاضے پورے کیے اور دونوں ملزمان کو قانونی نمائندگی کے مکمل مواقع فراہم کیے گئے۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ عوامی عہدہ ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ریاستی اثاثوں کی حفاظت کے لیے ہے۔

مزید یہ کہ کیس ریکارڈ کے مطابق کم قیمت لگانے اور اصل قیمت غلط ظاہر کرنے کے باعث قومی خزانے کو 32,851,300 روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ ہار اور بالیوں کی قیمت بالترتیب 1,359,000 روپے اور 275,000 روپے لگائی گئی، جبکہ ان کی اصل مساوی مالیت 71,561,600 روپے بتائی گئی ہے۔ استغاثہ کے مطابق اس عمل کے پیچھے ذاتی اور غیر قانونی محرکات کارفرما تھے، جو مجرمانہ نیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
عدالتی کارروائی اور شفاف عمل

یہ مقدمہ 21 نومبر 2024 سے زیرِ سماعت ہے اور تقریباً 15 ماہ کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے۔ کیس کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو منصفانہ سماعت کا مکمل موقع دیا گیا۔ ایف آئی اے نے ضابطہ فوجداری کے تحت تمام تقاضے پورے کیے، جن میں دفعہ 160 کے نوٹس، دفعہ 161 کے بیانات، نیب کے سابقہ بیانات پر انحصار اور دفعہ 164 کے تحت وعدہ معاف گواہ کا بیان شامل ہے۔

 

Scroll to Top