خصوصی عدالت نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے دونوں پر ایک کروڑ روپے جرمانے کا بھی حکم دیا ہے۔
اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ یہ سزا ریاستی تحائف کے تحفظ اور عوامی اعتماد کے اصول پر مبنی ہے، نہ کہ کسی سیاسی مخالفت کی بنیاد پر۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزامات عدالت کے مطابق، بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2021 میں سعودی ولی عہد سے موصول ہونے والا بلغاری (Bvlgari) جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کروایا اور قیمت جان بوجھ کر کم ظاہر کی۔جیولری سیٹ کی کل مالیت تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ روپے تھی۔سیٹ میں نیکلس، بریسلیٹ، انگوٹھی اور ائیر رنگز شامل تھیں۔قیمت کا تعین پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس اور بعد میں کسٹم حکام کے ذریعے کیا گیا، جبکہ غیر قانونی کم قیمت لگانے کے لیے اثرورسوخ استعمال کیا گیا
کیس کا پس منظر13 جولائی 2024: نیب نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں اڈیالہ جیل میں گرفتار کیا۔37 دن بعد: تفتیش مکمل ہونے پر 20 اگست 2024 کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا۔16 ستمبر 2024: ٹرائل کا آغاز اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں ہوا۔23 اکتوبر 2024: بشریٰ بی بی کی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ سے منظور ہوئی اور 24 اکتوبر 2024 کو انہیں رہا کیا گیا۔20 نومبر 2024: بانی پی ٹی آئی کی ضمانت بھی منظور ہوئی۔12 دسمبر 2024: ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی۔
ٹرائل اور گواہان
ٹرائل تقریباً ایک سال تک اڈیالہ جیل میں جاری رہا، جس میں کل 21 گواہان شامل تھے۔ 18 گواہان کے بیانات قلمبند اور جرح مکمل کی گئی۔ایف آئی اے پراسیکیوشن ٹیم نے چار گواہان کو ترک کردیا۔
اہم گواہان میں شامل تھے:
سابق ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر (ر) محمد احمد،پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی ،بانی پی ٹی آئی کے سابق پرنسپل سیکریٹری انعام اللہ
قانونی پہلو
ملزمان پر PPC سیکشن 409 کے تحت 7،7 سال قید کی سزا بھی دی گئی، جو سرکاری افسر کے ذریعے اعتماد کی خلاف ورزی اور ذاتی فائدے کے لیے تحفے کا استعمال ظاہر کرتی ہے۔ سزا کا مقصد نہ صرف جرم کی سزا دینا بلکہ مستقبل میں عوامی عہدوں کی امانت داری کو یقینی بنانا اور ریاستی تحائف کو ذاتی ملکیت بنانے سے روکنا بھی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ کسی فرد یا جماعت کے لیے نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی اور عوامی عہدوں کی امانت داری کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔





