وزیر مملکت قانون وانصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ آج کا فیصلہ آئین وقانون کے مطابق آیا ہے ، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اہلیہ نے بلگری جیولری سیٹ کی کم قیمت لگوائی ۔
تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائے قانون و انصاف، بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف آج کا فیصلہ مکمل طور پر آئین و قانون کے مطابق آیا ہے۔ انہوں نے بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کی، اور سعودی ولی عہد سے موصول ہونے والا بلگری جیولری سیٹ کم قیمت پر ظاہر کیا گیا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہا کہ ہر تحفہ ریاستی ملکیت ہے اور اسے توشہ خانہ میں جمع کروانا لازمی تھا، اس حوالے سے قانون کی خلاف ورزی سنگین جرم ہے۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے خزانہ، بلال اظہر کیانی نے کہا کہ تحفہ توشہ خانہ میں جمع کروانا لازمی تھا اور اسے کم قیمت پر ظاہر کر کے غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا، جسے فراڈ کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت کے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو:
پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 409 کے تحت 7،7 سال قید،
دیگر الزامات کے تحت 10،10 سال قید،
مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ دونوں پر 1 کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا عائد کی گئی۔
یہ فیصلہ توشہ خانہ کے اصولوں اور عوامی اعتماد کے تحفظ کی ضمانت کے طور پر سامنے آیا ہے، جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ریاستی تحائف کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا قانوناً قابل سزا جرم ہے۔





