توشہ خانہ 2 کی سزا 190 ملین پاؤنڈ کیس کی مدت ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی، عطاء تارڑ

توشہ خانہ ٹو! وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ سزا 190 ملین پاؤنڈ کیس کی مدت ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سنائی گئی سزا 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سابقہ سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد ہی نافذ العمل ہوگی۔

عطاء تارڑ نے ایک بیان میں بتایا کہ پہلے 14 سال کی سزا مکمل ہونے کے بعد، 17 سال کی نئی سزا شروع ہوگی۔ ان کے مطابق مقدمے میں ثابت ہوا کہ فراڈ کے تحت تحائف کی قیمت جان بوجھ کر کم لگائی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اور تحائف ذاتی استعمال کے لیے رکھ لیے گئے، جبکہ بشریٰ بی بی نے تحائف روک کر مالی فائدہ حاصل کیا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق اس کیس میں 3 کروڑ اور 7 کروڑ روپے کا نقصان درج کیا گیا، اور عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 10 اور 7 سال کی علیحدہ علیحدہ سزا سنائی۔

واضح رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں احتساب عدالت کے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں فیصلہ سناتے ہوئے دونوں پر 10،10 سال قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ، پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 409 کے تحت 7،7 سال کی علیحدہ سزا بھی دی گئی، جس سے مجموعی طور پر دونوں کو 17،17 سال قید کی سزا ہوئی۔

عدالت نے ہر ملزم پر 1 کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، اور اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو 6،6 ماہ اضافی قید کی سزا بھگتنی ہوگی۔ اس فیصلے میں حوالات میں گزارا گیا عرصہ بھی کل سزا میں شامل کیا گیا ہے۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر انصاف اور قانون کے مطابق کیا گیا، اور اس میں کسی سیاسی دباؤ یا مفاد کو دخل نہیں دیا گیا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ توشہ خانہ کے تحائف کی قیمت جان بوجھ کر کم لگانے اور ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی بنیاد پر یہ سزا دی گئی ہے، تاکہ ریاستی تحائف اور عوامی اعتماد کے اصول کو مضبوط کیا جا سکے۔

Scroll to Top