بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کو نہیں سنا جا رہا،وزیراعلی سہیل آفریدی

اخونزادہ فضل حق

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نےکہاہے کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کو نہیں سنا جا رہا اور عدالتیں بغیر سنے سزائیں دے رہی ہیں۔

سہیل آفریدی نے مردان میں گرلز کیڈٹ کالج کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ “میں ابھی پروگرام سے نکلا ہوں اور آپ سے خبر ملی ہے، فی الحال میں کوئی کمنٹس نہیں کروں گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ ناانصافی ہے اور تمام قانونی اور آئینی طریقوں کے مطابق آگے بڑھیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سیاسی مقدمات انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور وہ نہ تو ڈرتے ہیں اور نہ ہی ایک قدم پیچھے ہٹیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے خلاف تمام مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور عوام سب جانتی ہے۔جب عدالتیں انصاف نہ دیں اور الیکشن کمیشن میں بھی شنوائی نہ ہو تو احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں اپنے قائد سے ملاقات تک کی اجازت نہیں دی جاتی ایسے میں پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت پرامن احتجاج کی آئینی شق “رائٹ آف اسمبلی” کے تحت آگے بڑھے گی۔

وزیراعلیٰ نے احتجاجی سیاست کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ جب تمام راستے بند ہوں تو احتجاج ناگزیر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کوئی ہم سے نہیں چھین سکتا اور یہ حق ہر صورت استعمال کریں گے۔ آئندہ کا لائحہ عمل طے ہو چکا ہے اور منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے ہر بھائی کا حساب عوام لیں گے اور آئی ایم ایف رپورٹ سے متعلق تمام الزامات من گھڑت اور پروپیگنڈہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا نام آتے ہی مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کسی بھی نئے ملٹری آپریشن کا اعلان نہیں کرے گی اور نہ اس کی حمایت کرے گی، نہ اس کا حصہ بنے گی۔

انہوں نے پارٹی ورکرز کو ہدایت دی کہ وہ مکمل تیار رہیں اور اس بار بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں۔

وزیراعلیٰ نےکہا کہ ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں اور اپنے حقوق لے کر رہیں گے۔

Scroll to Top