شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر ناکام حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ دہشت گردو ں کی لاشیں لاوارث پڑی ہیں ۔
ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں 24 گھنٹے سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود شمالی وزیرستان بازار میں پڑی ہیں اور دہشگردوں کے ورثا نے بھی لاشیں اٹھانے سے انکار کردیا ہے۔
واضح رہےکہ گزشتہ روزشمالی وزیرستان میں بویہ قلعہ پر دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے خودکش حملے اور اس کے بعددراندازی کی کوشش کو سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بناتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کردیاتھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے ایک ڈمپر کے ذریعے خودکش دھماکہ کیا جس کا مقصد قلعے کی دیوار کو نقصان پہنچا کر اندر داخل ہونا تھا۔
حکام کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد چار دہشت گردوں نے قلعے میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں بیرونی باڑ کے قریب ہی ہلاک کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر پانچ دہشت گرد مارے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد دھماکے کے نتیجے میں صرف بیرونی دیوار کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکے، تاہم اندرونی دیوار کو عبور کرنے میں ناکام رہے۔ 64 فرنٹیئر فورس کی مؤثر مزاحمت اور مسلسل کارروائی کے باعث صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں لے لیا گیا۔
ابتدائی خودکش دھماکے کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے چار جوان شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والے اہلکاروں میں دو کا تعلق 153 میڈیم آرٹلری اور دو کا تعلق 66 میڈیم بٹالین سے تھا، جو اس وقت 64 فرنٹیئر فورس کے ساتھ تعینات تھے۔





