سیاسی سرگرمیاں تیز، اپوزیشن اتحاد نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا مطالبہ کر دیا

سیاسی سرگرمیاں تیز، اپوزیشن اتحاد نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا مطالبہ کر دیا

قومی مشاورتی کانفرنس میں اہم فیصلے ،اپوزیشن اتحاد کا نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن اتحاد کی دو روزہ قومی مشاورتی کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں نئے چیف الیکشن کمشنر کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے اور فروری 2024ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرائی جائیں۔

مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ جمہوریت کی عمارت شفاف انتخابات پر کھڑی ہے، اور اس تناظر میں نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی ناگزیر ہے۔ علاوہ ازیں، اپوزیشن نے نئے صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا بھی مطالبہ کیا۔

اعلامیے میں مزید مطالبات شامل ہیں، بانی تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ سے ملاقاتوں پر لگی پابندی کو فوری ختم کیا جائے، پیکا کے سخت قانون (کالا قانون) کو ختم کیا جائے، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی میں کمی لائی جائے، اور ٹیکسز میں رعایت دی جائے۔

خیبرپختونخوا میں امن جرگے کے متفقہ لائحہ عمل پر عمل درآمد، این ایف سی میں صوبے کے جائز حصے کی فراہمی اور معدنیات سے متعلق عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

اعلامیے میں اپوزیشن نے اعلان کیا کہ وہ صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں مزید مشاورتی کانفرنسز کا اہتمام کرے گی اور اسٹوڈنٹس یونین پر عائد پابندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ کانفرنس اپوزیشن اتحاد کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے آئندہ انتخابات اور ملک کی سیاسی صورتحال پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔

Scroll to Top