حمد اللہ خان
ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ کے اغوا اور قتل کے اندوہناک کیس میںپولیس نے مزید اہم اور فیصلہ کن پیش رفت کرتے ہوئے ایک اور ملزم عادل کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی نشاندہی پر مقتولہ ڈاکٹر وردہ کا موبائل فون اور اے ٹی ایم کارڈ برآمد کر لیا گیا ہے جو تفتیش میں اہم ثبوت قرار دیے جا رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم عادل نے دورانِ تفتیش سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولہ ڈاکٹر وردہ کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا اور بعد ازاں گڑھا کھود کر نعش کو دفن کر دیا گیا۔
ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے متعلقہ مقام پر کارروائی کرتے ہوئے باقیات برآمد کرلیں جس کے بعد کیس کی نوعیت مزید سنگین ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی اے کا موبائل سمز کے حوالے سے اہم اعلان
مزید تفتیش کے دوران پولیس نے ملزم عادل کی نشاندہی پر مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق برآمد ہونے والے اسلحے میں راکٹ لانچر کے گولے، متعدد رائفلیں، گولیاں اور دیگر خطرناک ہتھیار شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ اسلحہ غیر قانونی ہے اور اس کے استعمال کے حوالے سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
پولیس نے گرفتار ملزم کو سخت سکیورٹی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے پولیس کی استدعا پر ملزم کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم سے مزید تفتیش کی جائے گی ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وردہ اغوا و قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور اس سنگین جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔





