وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کا مختصر دورہ کیا، جہاں انہوں نے تحصیل باڑہ میں مقامی عمائدین اور عوام کے جرگہ سے خطاب کیا۔
جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ رجیم چینج کے ذریعے عمران خان کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رجیم چینج کے بعد جھوٹے بیانیوں کے ذریعے ہمیں نشانہ بنایا گیا، مگر ہم نے ان سازشوں کو ناکام بنایا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مستقل امن کے قیام کے لیے گرینڈ امن جرگہ منعقد کیا گیا جس نے 15 نکاتی متفقہ اعلامیہ پیش کیا، جس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر نے کسی بھی آپریشن کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس امن ایجنڈے کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی اے کا موبائل سمز کے حوالے سے اہم اعلان
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے وقت دس سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوا، فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے ضم اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور صوبائی حکومت ایک ہزار ارب روپے کے جامع پیکج پر کام کر رہی ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں عوامی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی ہدایت کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری جاری ہےجسے پوری قوت اور رفتار کے ساتھ فیصلہ کن مرحلے تک لے جایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے مذاکرات اور مزاحمت سے متعلق تمام اختیارات تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کو دیے ہیں اور جو بھی فیصلہ قیادت کرے گی،پاکستان تحریک انصاف اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ تاحال کسی سرکاری نمائندے نے ان سے مذاکرات یا کسی اور معاملے پر رابطہ نہیں کیا۔
دورے کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے جمرود میں مریض بچی زینب کے گھر بھی حاضری دی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے بچی سے اس کے گھر آنے کا جو وعدہ کیا تھاوہ آج پورا کر دیا۔





