وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے عمران خان سے ملاقات کی شرط واضح کر دی ہے۔
وفاقی وزیر اور ن لیگ کے رہنما طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف بیانات پر عمران خان سے ملاقات نہیں ہوگی۔
طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ جیل کسی جماعت کا ہیڈ کوارٹر نہیں ہوتی اور تحریک انصاف کے بانی کے زیادہ تر بیانات ریاست اور اداروں کے سربراہان کے خلاف ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی ایسے بیانات دیتے رہے تو ملاقات نہیں ہوگی تاہم کسی کی خواہش سے ان سے ملاقات رک نہیں سکتی۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ تحریک انصاف نے عوام میں تفریق پیدا کی اور سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے اب سیاست کا آغاز گالم گلوچ سے ہوتا ہے، کوئی بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے محفوظ نہیں رہا۔
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ معرکہ حق میں قوم متحد ہوئی تھی اور اس اتحاد کو برقرار رکھنا چاہیے تھا، لیکن پی ٹی آئی کی کارروائیوں کی وجہ سے اس میں دراڑ پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کا ماحول ہے، سہیل آفریدی الفاظ سوچ سمجھ کر استعمال کریں، فواد چودھری
واضح رہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی آج لاہور کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں اور فواد چودھری نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ دورے کے دوران الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں، مذاکرات کا ماحول ہے اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو تحریک چلے گی۔





