سلمان یوسفزئی
محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے مختلف ممالک میں سپر فلو کے پھیلاؤ اختیار کرنے پر پشاور سمیت بعض اضلاع سے انفلوئنزا وائرس کے پانچ کیسز کے نمونے قومی ادارہ صحت اسلام آباد کو تشخیص کے لیے بھیج دیے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت صوبے میں سیزنل انفلوئنزا کے بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے خصوصا بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
ان مریضوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے جنہیں سانس اور سینے، فلو اور نمونیا جیسے خطرناک امراض میں مبتلا ہو کر لایا جا رہا ہے جس سے ہسپتالوں میں چیسٹ وارڈز کے ساتھ ساتھ بچوں کے وارڈز پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ایک ایک بیڈ پر چار بچوں کو لایا جا رہا ہے جس سے ہسپتالوں میں بچوں کے وارڈز کی حالت انتہائی خراب ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور سمیت کئی اضلاع سے سیزنل انفلوئنزا کے متعدد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تاہم لوگوں میں نئے ایچ تھری این ٹو (H3N2) سپر فلو کا شدید خوف پایا جاتا ہے، جس کے باعث سیزنل انفلوئنزا کے مریضوں کو فوری طور پر ہسپتال لے جایا جا رہا ہے جس سے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش مسلسل بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ماہرین نے شوگر کنٹرول کا آسان طریقہ بتا دیا
ذرائع کے مطابق سپر فلو کیسز کے شبے میں جو نمونے قومی ادارہ صحت اسلام آباد کو بھیجے گئے تھے تاحال دو ماہ گزرنے کے باوجود ان کے نتائج موصول نہیں ہو سکے جس کے باعث محکمہ صحت کو ان کیسز کے بارے میں تاحال مکمل آگاہی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت نے سپر فلو کے حوالے سے تمام ہسپتالوں کو مکمل ایڈوائزری جاری کر رکھی ہے جس میں ہسپتالوں کو خصوصی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ خصوصا طبی عملے کو ماسک اور گلوز کے استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ ہسپتالوں کو ایسے مریضوں کو الگ رکھنے اور کسی بھی علامات کی صورت میں فوری طور پر محکمے کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ قبل ازیں قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں 20 فیصد نمونے ایچ تھری این ٹو سپر فلو کے نکلے ہیں جس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
حالیہ موسم میں سردی کی شدت میں اضافے کے باعث ان کیسز میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق پشاور کے تینوں بڑے ہسپتالوں میں 60 ہزار سے زائد سیزنل انفلوئنزا کے کیسز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ کئی اضلاع میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب بتائی جا رہی ہے جہاں شدید سردی، گیس کی کمی اور سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث کیسز میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
متاثرہ افراد میں زیادہ تر کھانسی، شدید زکام، سر درد اور جسم میں درد جیسی علامات شامل ہیں جبکہ بعض مریضوں کو بخار کی بھی شکایت ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سیزنل انفلوئنزا کے کیسز ماہ فروری تک رپورٹ ہوتے رہیں گے تاہم عام لوگوں کو اس حوالے سے انتہائی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔
بچوں اور بڑی عمر کے افراد کو گرم ملبوسات، گرم مشروبات اور ٹھنڈ سے بچاؤ کے اقدامات اختیار کرنے چاہئیں جبکہ جگہ جگہ تھوکنے سے پرہیز، ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے کا بھی لازمی اہتمام کیا جائے۔





