ریاض: سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں 18,805 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 12,238 غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے ممالک واپس بھیج دیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق25 سے 31 دسمبر 2025 کے دوران گرفتار افراد کی تفصیل کچھ یوں ہے:
11,752 افراد کو اقامہ قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔
4,239 افراد غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوئے۔
2,814 افراد قانون محنت (لیبر قوانین) کی خلاف ورزی پر پکڑے گئے۔
سرحد عبور کرنے کی کوشش پر حراست میں لیے گئے 1,739 افراد میں زیادہ تر ایتھوپین (62%) اور یمنی (37%) شہری شامل تھے، جبکہ باقی ایک فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔
علاوہ ازیں 46 افراد کو گرفتار کیا گیا جو سعودی عرب سے ہمسایہ ممالک میں غیر قانونی داخلے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : وینزویلا کی صورتحال پر پاکستانی دفتر خارجہ کا بیان سامنے آگیا
مزید برآں14 افراد کو حراست میں لیا گیا جو غیر قانونی طور پر سفر، رہائش، روزگار یا پناہ دینے کی کوشش میں ملوث تھے۔
سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کو سفر، رہائش یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے، اور اس کے لیے سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی پابندی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی تاکہ ملک میں قانون و نظم قائم رکھا جا سکے۔





