پی ٹی اے کی سائبرفراڈکے سخت کارروائی،لاکھوں سمز بلاک

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر قانونی سائبر فراڈ کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال کے دوران 51 لاکھ سے زائد غیر قانونی سمز بلاک کر دی ہیں۔

کاروائی کے دوران 83 ویب سائٹس جو غیر قانونی سمز فروخت کر رہی تھیں بھی بند کر دی گئیں۔

ٹیلی کام ڈیٹا بیس کی صفائی کے لیے پی ٹی اے نے ایک سال میں 8 لاکھ 91 ہزار غیر فعال سمز بھی بلاک یا ری سائیکل کیں۔ فوت شدہ افراد کے نام پر رجسٹرڈ 32 لاکھ سمز، منسوخ یا ضبط شدہ شناختی کارڈز پر جاری 69 ہزار سمز، ایکسپائرڈ شناختی کارڈز پر 7 لاکھ 83 ہزار سمز اور وطن واپس بھیجے گئے غیر ملکیوں کی 1 لاکھ 79 ہزار سمز بھی بند کی گئیں۔

پی ٹی اے نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ساتھ مل کر ملک کے 24 شہروں میں غیر قانونی سمز کے خلاف 76 چھاپے مارے، جن میں 5300 مقامی اور 8 ہزار غیر ملکی سمز ضبط کی گئیں۔

ان کارروائیوں کے دوران 99 بائیومیٹرک ڈیوائسز اور 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد ڈیجیٹل فنگر پرنٹس بھی قبضے میں لیے گئے۔ مقامی غیر قانونی سمز کے حوالے سے 44 چھاپوں میں 71 افراد جبکہ بین الاقوامی سمز کے معاملے میں 32 چھاپوں میں 46 افراد گرفتار ہوئے۔

پی ٹی اے نے سمز کے فروخت کنندگان کے لیے تھری فیکٹر تصدیق لازمی قرار دی ہے اور بائیومیٹرک ڈیوائسز پر جیو فینسنگ اور لائیو فنگر ڈیٹیکشن کا نظام نافذ کر دیا ہے۔

Scroll to Top