پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی اور امن قائم رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں سمیت ہر مکتبہ فکر کو شامل کرتے ہوئے گرینڈ امن جرگہ منعقد کیا گیا، جس میں 15 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس ایجنڈے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ صوبے پر بند کمروں میں کیے گئے فیصلے اور زبردستی مسلط کیے گئے اقدامات تمام اسٹیک ہولڈرز میں تشویش پیدا کریں گے۔
انہوں نے کہا ایک فرد یا ادارہ زور زبردستی فیصلے مسلط نہیں کر سکتا، اور ایسے اقدامات کے نتائج وہ نہیں ہوں گے جو فیصلہ کرنے والے چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اعتزاز حسن کی بہادری آج بھی زندہ، 12 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پائیدار اور مستقل امن خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کی مشترکہ ضرورت ہے، اور اس کے لیے جامع، ہمہ گیر اور شمولیتی پالیسی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ادارے، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور قبائلی مشران مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن قائم ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے نہ تو امن قائم کر سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال کر سکتے ہیں، لہٰذا صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔





