اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خرم دستگیر نے ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2026ء پاکستان کے لیے دہشتگردی ختم کرنے کا سال ہوگا۔
خرم دستگیر نےنجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور ملکی خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں رونما ہو رہے ہیں، جس پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔
خرم دستگیر نے مزید کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دہشتگردی کے حوالے سے ون پوائنٹ ایجنڈے پر بات کرنا چاہتی ہے تو حکومت تیار ہے اور مذاکرات کل ہی شروع کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ سب سیاسی جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا ماحول سازگار نہیں ہے، بیرسٹر علی ظفر
خرم دستگیر کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے، سکیورٹی فورسز اور متعلقہ حکومتی محکمے فعال کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ حکومت تمام وسائل بروئے کار لا کر ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2026ء کے دوران دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے ذریعے ملک میں کاروبار، تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی پر مثبت اثر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ عام شہری محفوظ اور پرامن زندگی گزار سکیں۔





