ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام لوگوں خصوصاً متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کے باعث لوگ سونے کی خریداری سے گریز کر رہے ہیں، اور حتیٰ کہ معمولی کمی کے مواقع سے بھی صرف چند ہی افراد فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔
چیئرمین جیولرز مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے میڈیا کو بتایا کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق، رواں مالی سال کے دوران عالمی سطح پر سونے کی فی اونس قیمت میں تقریباً 2 ہزار ڈالر کا تاریخی اضافہ ہوا، جس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چین اور دیگر ممالک کی جانب سے سونے کی خریداری میں تیزی بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی معیشت میں استحکام آتا ہے، سود کی شرحیں بلند رہتی ہیں اور ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قیام پاکستان سے آج تک سونے کی قیمت میں کمی نہیں آئی، اور توقع ہے کہ نئے سال 2026 میں بھی سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا۔ چیئرمین جیولرز مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک میں چاندی کے مستقبل کے امکانات بھی روشن ہیں اور سرمایہ کاروں کو چاندی میں سرمایہ کاری پر غور کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق، اس مہنگائی کے دور میں سونے کے خریداروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، اور ممکنہ کمی یا اضافے سے فائدہ اٹھانے کے لیے مارکیٹ کی حرکتوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔





