پی ٹی آئی خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے، اڈیالہ جیل کوئی تماشہ گاہ نہیں، عظمیٰ بخاری

اسلام آباد: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنی سیاسی سرگرمیوں میں اڈیالہ جیل کے باہر خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل زمان پارک یا پاکپتن کے پیر خانہ کی طرح نہیں ہے، جہاں ہر ہفتے اہل و عیال اور چند کرائے کے افراد کے ساتھ تماشا لگایا جاتا ہو۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پارٹی کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر کوئی عہدے دار موجود نہیں ہوتا اور خواتین کو غیر قانونی طور پر سامنے رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس ہر صورتحال میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے اور تب ہی کارروائی کرتی ہے جب قانون کی خلاف ورزی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا اگر آپ پولیس کے ساتھ بدتمیزی کریں یا ہاتھا پائی کریں تو کیا پولیس خاموش رہے گی؟ ہر گناہ کا الزام کسی دوسرے پر ڈالنا بند کیا جائے، جیسے کہ مریم نواز پر لگایا جاتا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی رہنماؤں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی لیڈر کے لیے لوگ باہر نہیں نکلتے تو اس میں مریم نواز کا کیا قصور ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بجلی، گیس اور ٹیکس کی رعایتیں ختم؟ مصدق ملک نے بڑا اشارہ دے دیا

جو خود کو مقبول ترین سمجھتا تھا، اب وہ فضول ترین بن چکا ہے۔ آئیں اور قانون کا درس وہ دے رہے ہیں جو خود مطلق العنان بنتے تھے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ آئیں کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جیسے کارڈ کھیلنا بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی قانون کو ہاتھ میں لے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہو، اسے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔

عظمیٰ بخاری نے عوام پر زور دیا کہ وہ قانون کے ساتھ تعاون کریں اور امن و امان قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں، جبکہ حکومت اور پولیس ہر شہری کے حقوق کے تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گی۔

Scroll to Top