اختیارات نہ دینے پر کشیدگی عروج پر ،خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندے اسمبلی کے باہر دھرنے کی دھمکی دینے لگے۔
خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 26 جنوری سے اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔ لوکل کونسلز ایسوسی ایشن کے مطابق یہ احتجاج مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
خیبرپختونخوا میں گزشتہ چار سال سے بلدیاتی نظام مفلوج ہے اور صوبائی حکومت کی طرف سے لوکل حکومتوں کے مسائل میں دلچسپی نہ لینے کے باعث مقامی نمائندوں نے پُرامن احتجاج کی کال دی تھی۔ احتجاج صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن، میئر مردان حمایت اللہ مایار کی قیادت میں کیا گیا، جس میں صوبہ بھر سے بلدیاتی نمائندے شریک ہوئے۔
احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں بلدیاتی نظام کے ساتھ بدترین ناروا سلوک کیا گیا، اور مقامی حکومتوں کو اختیارات اور فنڈز فراہم نہ کرنے کے باعث عوامی خدمت متاثر ہوئی ہے۔ مقررین میں ترجمان ایسوسی ایشن عزیز اللہ مروت، عادل خان، ارباب وصال، غیور علی خٹک، فرہاد مروت، رفیع اللہ، مولانا نیک محمد درویش، تیمور کمال، ضیاء الرحمن، مولانا انور باچا، ملک عمران اور ماصل خان شامل تھے۔
احتجاج کے بعد صوبائی حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی۔ وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور سیکرٹری بلدیات سے ملاقات میں ایسوسی ایشن کی مذاکراتی کمیٹی نے آئندہ ہفتے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی حاصل کی۔ کمیٹی کی سربراہی ایسوسی ایشن کے ترجمان عزیز اللہ مروت کر رہے تھے، جس میں رفیع اللہ، عادل خان، غیور خٹک، فرہاد مروت، ارباب وصال، ضیاء الرحمن سمیت دیگر شامل تھے۔
کوارڈینیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن انتظار علی خلیل کے مطابق، اگر 25 جنوری تک بلدیاتی نمائندوں کے مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو 26 جنوری سے صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا شروع کر دیا جائے گا جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کی یہ کشیدگی صوبائی حکومت اور مقامی نمائندوں کے درمیان دیرینہ اختلافات کی عکاسی کرتی ہے، اور اس احتجاج کا ملک کی مقامی جمہوری فضا پر گہرا اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔





