اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایک سینئر بیوروکریٹ کے خلاف گزشتہ دس برسوں میں مبینہ طور پر ریکارڈ توڑ کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں اربوں روپے مالیت کے اثاثے بنانے اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے دعوے شامل ہیں۔
ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے سابقہ ایکس (ٹوئٹر) پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تمام شواہد بہت جلد قوم کے سامنے پیش کریں گے۔
:
“ریکارڈ توڑ کرپشن، خاموش ریاست،
کے پی میں تعینات ایک سینئر بیوروکریٹ نے گزشتہ دس برسوں میں کرپشن کے وہ ریکارڈ توڑے ہیں جن پر بڑے بڑے مافیا بھی رشک کریں۔ اندازہ لگائیے—
الزامات کے مطابق ہزار ارب روپے سے زائد اثاثے،
اور نظام؟ مکمل خاموش۔
ایک سال قبل، مبینہ طور پر اپنے فرنٹ مین…— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) January 18, 2026
مروت کے مطابق الزامات میں شامل ہے کہ ایک سال قبل مبینہ طور پر افسر کے فرنٹ مین اسامہ کے ذریعے مہمند میں نیف رائٹ (Nephrite) کی ایک وسیع کان ڈی آئی خان کی ایک خاتون سے زبردستی چھین لی گئی، جو اب ایک ارب روپے مالیت کا اثاثہ بن چکی ہے۔
مزید یہ کہ اسی افسر نے پانچ ہزار کنال زمین خرید کر اسے PDA کے فنڈز سے ترقی دینے کا منصوبہ بنایا، جس پر عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ تقریباً ہر کنسلٹنٹ کو بلاجواز دباؤ کے ذریعے ادائیگی پر مجبور کیا جاتا رہا، جس کے بعد اعتراضات ختم اور فائلیں صاف کی جاتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امیدواروں کیلئے خوشخبری: سی ایس ایس 2025 کے نتائج جلد جاری ہوں گے
مروت نے واضح کیا کہ تمام دستاویزی ثبوت قوم کے سامنے رکھے جائیں گے اور فیصلہ حقائق کی بنیاد پر ہوگا۔
انہوں نے عوام کے سامنے سوال اٹھایا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو کیا احتساب کا عمل شروع ہوگا، یا یہ معاملہ بھی دیگر معاملات کی طرح فائلوں میں دفن کر دیا جائے گا۔
ان کے الفاظ میںجب ثبوت بولتے ہیں، تو عہدے خاموش ہو جاتے ہیں۔





