محمد اعجاز آفریدی
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت رواں مالی سال کے پہلے ششماہی میں ترقیاتی محاذ پر توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔
مجموعی طور پر 407 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے حکومت صرف 87 ارب روپے خرچ کرنے میں کامیاب ہوئی حالانکہ محکمہ فنانس کی جانب سے مختلف صوبائی محکموں کو 155 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی فنڈز جاری کیے جا چکے تھے۔
دستیاب وسائل کے باوجود صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سست روی کا شکار رہی، جس کے باعث حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
قبائلی اضلاع کے لیے صوبائی حکومت نے اے ڈی پی کی مد میں 139 ارب روپے الگ سے مختص کیے تھے جن میں سے 46 ارب 16 کروڑ روپے ریلیز ہوئے جبکہ صرف 28 ارب 84 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد کی عدالت کا علی امین گنڈا پور کے حوالے سے بڑا فیصلہ
دستیاب شواہد کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 کے پہلے ششماہی کے دوران مجموعی 407 ارب روپے میں سے 155 ارب روپے جاری کیے لیکن مختلف محکمے صرف 87 ارب روپے خرچ کرنے میں کامیاب ہوئے جو مجموعی ترقیاتی بجٹ کے صرف 21.4 فیصد بنتے ہیں۔
محکمہ فنانس کے اعداد و شمار کے مطابق زراعت کے شعبے کے لیے 10 ارب 56 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے پہلے ششماہی کے دوران 5 ارب 5 کروڑ روپے جاری ہوئے لیکن محکمہ زراعت صرف 2 ارب 52 کروڑ روپے خرچ کرنے میں کامیاب رہا۔
اسی طرح محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 11 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے جن میں سے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے 8 ارب روپے جاری کیے لیکن صرف 5 ارب 22 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں چوری کی انوکھی واردات،بھائی نے اپنے ہی بھائی کے گھر پر ہاتھ صاف کر دیا
انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے لیے 27 ارب 26 کروڑ روپے کی ترقیاتی فنڈز مختص کی گئی، جس میں 4 ارب 8 کروڑ روپے ریلیز ہوئے، جبکہ صرف 1 ارب 48 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ محکمہ صحت کے لیے 34 ارب 53 کروڑ روپے میں سے صرف 6 ارب 91 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ محکمہ خزانہ نے 12 ارب 91 کروڑ روپے جاری کیے تھے۔ محکمہ بلدیات کے 5 ارب 67 کروڑ روپے میں صرف 75 کروڑ 41 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جو اس شعبے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں پینے کے صاف پانی کے منصوبوں کے لیے 10 ارب 72 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے صرف 2 ارب 70 کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ محکمہ خزانہ نے 3 ارب 62 کروڑ روپے ریلیز کیے۔
ملٹی سیکٹر ڈویلپمنٹ کے لیے 51 ارب 2 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا، جس میں سے 37 ارب روپے ریلیز ہوئے، لیکن صرف 12 ارب 43 کروڑ روپے خرچ ہو سکے۔
اربن ڈویلپمنٹ کے 26 ارب 48 کروڑ روپے میں صرف 7 ارب 83 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ سڑکوں کی تعمیر کے لیے مختص شدہ 87 ارب 5 کروڑ روپے میں سے 22 ارب 34 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ محکمہ خزانہ نے 9 ارب 40 کروڑ روپے جاری کیے۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیے 4 ارب 77 کروڑ روپے کے فنڈز رکھے گئے جس میں سے صرف 1 ارب 82 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
قبائلی اضلاع میں بھی صورتحال ایک جیسی رہی۔ محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق اے ڈی پی کی مد میں 139 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 46 ارب 16 کروڑ روپے ریلیز ہوئے، لیکن صرف 28 ارب روپے خرچ ہوئے۔
اس سے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ترقیاتی اخراجات کا سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو زیادہ تر منصوبے اس سال بھی مکمل نہیں ہو پائیں گے۔





