وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وزیرمملکت طلال چوہدری کی صوبائی حکومت کے خلاف بیانات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر سیاست کرنا قابل مذمت ہے اور طلال چوہدری کو واضح طور پر یہ جواب دینا چاہیے کہ کس بنیاد پر ایک پورے صوبے کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں سیکیورٹی فورسز، عوام اور منتخب پارٹی اراکین پہلے ہی نشانہ بن چکے ہیں۔
معاون خصوصی نے طلال چوہدری کی جماعت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جھوٹ اور الزام تراشی کی سیاست کی جاتی ہے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں عوامی مینڈیٹ سے تیسری بار حکومت بنائی اور اگر کارکردگی نہ ہوتی تو عوام پی ٹی آئی کو دوبارہ منتخب نہ کرتے۔
انہوں نے طلال چوہدری کے سی ٹی ڈی سے متعلق دعووں کو بھی بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی بغض اور کم علمی کی عکاسی ہے۔
شفیع جان کے مطابق خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی اور پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر کام کر رہی ہیں اور ان کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سی ٹی ڈی اور پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 31 ارب روپے کی منظوری دی ہے اور پشاور میں سیف سٹی منصوبہ آئندہ ہفتے مکمل ہو جائے گا جبکہ بنوں اور دیگر اضلاع کے لیے بھی فنڈز منظور ہو چکے ہیں۔
شفیع جان نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی دہشت گردی کے حوالے سے پالیسی شفاف ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف پہلے ہی واضح کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلال چوہدری کے صوبائی حکومت کو آن بورڈ لینے کے بارے میں بیانات بے سروپا اور حقیقت سے دور ہیں۔





