راولپنڈی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الوقت پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف ہاتھ ملائے اور دوسری طرف مکا مارے تو ملکی حالات میں بہتری نہیں آئے گی، اور اگر حکومت مکے مارے گی تو عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی آٹھ فروری کو ہر صورت احتجاج کرے گی۔
بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے اپوزیشن لیڈرز کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی پر اب بڑی ذمہ داری ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ یہ موثر کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈرز نے اپنی تقاریر میں مثبت پیغامات دیے اور ان کا اقدام خوش آئند ہے۔
بیرسٹر گوہر خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر بے بنیاد الزامات نہیں لگنے چاہئیں اور صوبائی حکومت کو بھی ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے جن سے الزامات لگیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں ای ٹرانسفر کے تحت اساتذہ کی تعیناتیاں اور تبادلے
انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی الزامات لگائے جائیں، ان کے حقائق اور شواہد بھی پیش کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے، صلح صفائی بہتر ہے، لیکن حکومت اگر دوغلی پالیسی اختیار کرے تو حالات میں بہتری ممکن نہیں۔
بیرسٹر گوہر خان نے یقین دلایا کہ پارٹی قانونی اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنا موقف واضح کرتی رہے گی اور عوامی احتجاج جاری رہے گا۔





