سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے پاکستان فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حق میں مؤثر انداز میں آواز اٹھا سکتا ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق فیصلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ شرم الشیخ میں موجود آٹھ مسلم ممالک کا مشترکہ فیصلہ ہے، جن میں پاکستان، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ،مصراور قبرص شامل ہیں۔
مشاہد حسین سید کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کو صرف غزہ تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ یہ عالمی امن کے لیے ایک پلیٹ فارم ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ٹرمپ نے بتایا کہ یہ ادارہ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ اس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان اپنے دیرینہ مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کر سکتا ہے، جس میں فلسطینیوں کا حقِ خودارادیت، آزاد فلسطینی ریاست اور مسئلہ کشمیر شامل ہیں جو پاکستان کے بنیادی نظریے کا حصہ ہیں۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی پاکستان نے ماضی میں بھی مخالفت کی ہے اور آئندہ بھی ایسی کسی کارروائی کی مخالفت جاری رکھے گا۔





